منگلورو:25/نومبر (ایس او نیوز/وی بی) راتوں رات 500اور1000ہزارروپئے کے نوٹوں کو غیر قانونی قرار دے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ اس بات کا الزام ڈی سی سی کے کارگزار صدرابراہیم کوڈیجال نےلگایا۔ نوٹ کالعدم کی مذمت میں دکشن کنڑا ضلع کانگریس کی طرف سے ڈی سی دفترکے روبرومنعقدہ احتجاجی جلسہ کا افتتاح کرنے کے بعد وہ خطاب کررہے تھے۔ بلیک منی کے بہانے مودی حکومت نے ملک کے کسانوں، غریبوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے، جمہوریت پربٹہ لگایا ہے۔ ملک کے 95 فی صد عوام متعلقہ فیصلے کی زبردست مخالفت کررہے ہیں، اس کے باوجود مودی ایسے خاموش ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ نوٹ کالعدم ہونے سے مظلوم طبقات کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، انہوں نے کہا کہ متعلقہ فیصلے کےخلاف ملک کی 10اہم سیاسی پارٹیاں متحدہ طورپر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کررہے ہیں۔
اے آئی سی سی ممبر پی وی موہن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 2000 کے نئے نوٹ میں نہ اشوک چکرہے، نہ مور ہے ، اور نہ شیر دکھائی دے رہاہے، اس طرح مودی نے منو دور کی شروعات کی ہے۔ دیررات نوٹوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے ملک کے عوام کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ قریب 657 لوگوں کے 1لاکھ کروڑ روپئے بیرونی ملک کے بینکوں میں محفوظ ہیں، مودی کو سب سے پہلے وہ فہرست جاری کرنے کی اے آئی سی سی ممبر پی وی موہن نے مانگ کی۔ منگلورو مہانگر پالیکا کے مئیر ہری ناتھ ، دکشن کنڑا ضلع کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر ایم ایس محمد، خواتین صدر شیالیٹ پنٹو، یوتھ صدر متھون رائی نے بھی خطاب کیا۔ احتجاج میں کاجو ترقی بورڈ کے صدر بی ایچ قادر ، دکشن کنڑا ضلع پنچایت اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمن شاہ الحمید ، سابق مئیر ششی دھر ہیگڈے ، ممتا گٹی ، وشواس کمار، بال کرشنا شٹی ، پدمنابھ ، سدھیر ، نذیر ، اشرف وغیرہ موجود تھے۔